Event - Tanzeem Nasl-e-Nau Hazara Mughal

محفل نوحہ خوانی

ٹھیک 3:00بجے عزاداروں اور ماتمی دستوں کا پہنچنا شروع ہوا۔ آن ہی آن میں ہال کے اندر تل دھرنے کی جگہ باقی نہیں بچی دنیا بھر سے ہزارگی اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ہزارگی مجلس نوحہ خوانی کوسینکڑوں لوگوں نے براہ راست دیکھا اور اس کی بڑی تعریف کی کوئٹہ( خصوصی رپورٹ) ہزارگی اکیڈمی (رجسٹرڈ) تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے زیر اہتمام گزشتہ روز تنظیم کے خدیجہ محمودی ہال میں دوسرا سالانہ شاندار ہزارگی مجلس نوحہ خوانی منعقد کی گی۔ اس بابرکت مجلس میں کوئٹہ کے معروف ترین ماتمی دستوں اور ہئیتوں کے نوحہ خوانوں کو دعوت دی گئی تھی۔ سال گزشتہ کے برعکس اِس سال ہزارگی نوحہ خوانی کی روایت میں ایک اور دستے کا اضافہ ہوا ، دستہ Ώ ماتمی عزاداران ابوالفضل عباس محلہ عباسیہ ہزارہ کے نوحہ خوانوں نے خصوصی شرکت کی۔ ٹھیک 3:00بجے عزاداروں اور ماتمی دستوں کا پہنچنا شروع ہوا۔ آن ہی آن میں ہال کے اندر تل دھرنے کی جگہ باقی نہیں بچی۔ مجلس نوحہ خوانی میںحسب سابق زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کیں جن میںعلمائے کرام، سیاستدان، سماجی کارکن، ماہرین تعلیم، شعرائ، اساتذہ، طلباءطالبات ، خواتین اور ہزارہ زعماءاور معتبرین جن میں اتحاد تاجران بلوچستان کے حاجی طاہر نذری، آزاد امیدوار حلقہ 16حاجی علی اکبر،علامہ محمدجمعہ اسدی، سابق اے آئی جی پولیس فقیر حسین چنگیزی، سابق ممبر سینٹرل کمیٹی تنظیم غلام عباس زرگر، معروف شاعر رمضان علی عدم، پروفیسر فاطمہ چنگیزی، تنظیم کے سابق سکیرٹری سپورٹس اور ممبر سینٹرل کمیٹی غازی کاظم علی چنگیزی، حاجی عبدالواحد، آزاد امیدوار حلقہ 16علی جان چئیرمین سمیت تنظیم نسل نوہزارہ مغل کے بانی چئیرمین محترم غلام علی حیدری، سکیرٹری جنرل محمدابراہیم ہزارہ، رکن سینٹرل کمیٹی سیدعاشق حسین زیدی، حاجی سلیم رضا، پروفیسرغلام عباس جعفری، صفدر علی خان تاتاری، محترمہ فاطمہ ابراہیم صاحبہ،معروف فنکار اور سکیرٹری ثقافتی امور نجیب اللہ ہزارہ، آزاد امیدوارحلقہ10ماسٹرمحمدصادق اور دیگر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔مجلس کی میزبانی کے فرائض مرزا آزاد نے انجام دئیے۔جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت خوش الحان قاری تعمیرنسل نو سکولز نیٹ ورک کی جماعت ہفتم کے سیدعلی آغانے حاصل کی۔ میزبان نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے مجلس نوحہ خوانی کے آغاز میں ہزارگی نوحہ خوانی کی روایت پر مختصراً گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہزارگی نوحہ خوانی کی باقاعدہ نوشت و خواندکا سلسلہ اگرچہ اب شروع ہوا ہے تاہم اس کی روایت سینکڑوں برس پرانی ہے اور یہ ہمارے آباءو اجداد سے سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ آج الحمداللہ ہزارگی زبان و ادب کے بڑے اچھے شعراءاس صنف میں کام کررہے ہیں۔ ہزارگی زبان میں آج بہترین نوحے، مرثیے، سوز اور سلام لکھے جارہے ہیں۔ ہزارگی اکیڈمی تنظیم نسل نو ہزارہ مغل اپنی شاندار روایات کے تسلسل میں اس طرح کی مجالس کے انعقاد کو تسلسل کے ساتھ آگے لیجائے گی۔ جس طرح دنیا کے گوشہ و کنار میں حضرت امام حسین علیہ السلام سے محبت اور عقیدت رکھنے والی اقوام اپنی اپنی بولی میں اظہار عقیدت و محبت کرتے ہیں، اسی طرح سے ہزارگی بولنے والے شعراء، ماتمی، عزادار اور نوحہ خوان بھی ہزارگی میں اپنے اظہار عقیدت کرتے ہیں۔ مجلس نوحہ خوانی کے شروع میں ہی اعلان کیاگیا کہ اس مجلس کو انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں براہ راست دیکھی جاسکتی ہے۔ دنیا بھر سے ہزارگی اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ہزارگی مجلس نوحہ خوانی کوسینکڑوں لوگوں نے براہ راست دیکھا اور اس کی بڑی تعریف کی۔ مجلس کے آغاز میں سب سے پہلے ہئیت عزادران بیت الاحزان کے نوحہ خوان عمران علی یاوری اور ہمنواوΏں کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے سب سے پہلا نوحہ ”توئی دوا توئی درمونی حسنؑ ہائے قاسم جان ہائے قاسم جان۔۔۔ مافتی جلونی آسمونی حسنؑ ۔۔ہائے قاسم ہائے قاسم“پڑھ کرخوب داد وصول کی۔ اس کے ساتھ خدا یا خود تو منگرنی ای ظالمو رہ۔۔۔ ای ظالمونی سیاہ دلائی کارو رہ ۔۔ای کافرو رہ۔۔۔ پڑھا گیا۔ دو نوحہ پڑھنے کے بعد ماتمی دستہΏ ہئیت عزاداران حسینی ناصرآباد ہزارہ کو عقیل حسنین اور ہمنواوΏں کے ساتھ سٹیج پر نوحہ خوانی کی دعوت دی گئی۔ ساتھ ہی میزبان نے وقتاً فوقتاًحضرت امام حسین ؑ کی شخصیت پر عالمی سطح کے دانشوروں کے اقوام پڑھ کر سناتے رہے۔ سب سے پہلے انہوں نے شہرہΏ آفاق قلمکار چارلزڈکنز کاقول سنایا جس کا کہنا تھا کہ :If Husain had fought to quench his worldly desires…then I do not understand why his sister, wife, and children accompanied him. It stands to reason therefore, that he sacrificed purely for Islam.”یعنی اگر امام حسین ؑ نے دنیوی خواہشات کی تکمیل کے لئے لڑناتھا تو پھر اس کی بہن، بیوی اور بچے اس کے ساتھ کیوں تھے۔ انہوں نے ایک مقصد کی خاطر قیام کیااور خالصتاً اسلام کے لئے قربانی دی۔ “ِِہئیت ماتمی حسینی ناصرآباد ہزارہ کے نوحہ خوانوں نے ”مختہ نہ کو زینب ؑ۔۔۔ زینب ؑ غم خوارم۔۔۔ اور پھر” استے بے جورہ د ای دنیا ماہِ تابان مہ۔۔۔ تکیہ دل مہ توئی توئی آخری ارمان مہ۔۔۔ خوشبوئی خانے مہ استے ای بوئی سبحان مہ۔۔۔ چی عجب روز امدہ کی اکبر شدہ مہمان مہ۔“ پڑھے۔ ان کے بعد ہئیت ماتمی ابوالفضل عباس محلہ عباسیہ ہزارہ کو نوحہ خوانی کے لئے دعوت دی گئی۔ جنہوں نے ” ای علی اکبر ای نوربند از مو نہ رو دہ میدو۔۔۔ نہ درہ رحم دشمو سری سیزو نہ رو دہ میدو۔“ پڑھ کر عزاداروں سے ماشاءاللہ سبحان اللہ کی خوب داد سمیٹی۔ ان کے بعد دوبارہ میزبان نے ایڈورڈگبن کاقول سناتے ہوئے کہا کہ:In a distant age and climate, the tragic scene of the death of Hosein will awaken the sympathy of the coldest reader. (وقت کی تندو تیزاوربے رحم موجوںمیں بھی حسین ؑ کی المناک شہادت ہرطرح کے قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے گی۔)اور اس کے بعد ہئیت عزاداران بیت الاحزان کے نوحہ خوانوں کودعوت دی گئی، جنہوں نے ” اکبر ای نوجوان خوشنمائی مہ کور شونہ چیمائی مہ۔۔۔از دل خو ما خبردروم و بس خدائی مہ۔۔ ۔کور شنہ چیمائی مہ۔۔۔ غمائی تو روز الی سفید مونہ مویائی مہ ۔۔۔کورشنہ چیمائی مہ۔“ کے علاوہ ”آبئی اویے نہ کو شھید رائی خدا یوم۔۔ہائے ہائے راضی از خدا یوم۔۔۔ نو کر دہ بے کفن حسین ؑ سر جدا یوم۔۔۔ ہائے ہائے راضی از خدا یوم۔۔۔“ پڑھا جن کے بعد دستہ ماتمی ہئیت عزاداران ناصر آباد کوبارِ دیگر سٹیج پر بلایاگیا جنہوں نے”اصغر ای طفِ شیر خورے مہ۔۔آخ ریزہ بارے مہ۔۔۔ توئی بلگگ و جو دانے مہ۔۔۔ آخ ریزہ بارے مہ۔۔۔ بے از تو نہ موشہ چارے مہ۔۔ آخ ریزہ بارے مہ۔۔۔ خدا حافظ نوری دیدے مہ۔۔۔ آخ ریزہ بارے مہ۔۔“ کے علاوہ ”چراغ دل جوان خوش نمائی مہ قاسم پنائی مہ قاسم۔۔۔ موری میدو تو ای نوری چیمائی مہ قاسم۔۔پنائی مہ قاسم۔“ پڑھا۔میزبان نے مہاتما گاندھی جی کا قول سناکر نئے نوحہ خوانوں کو دعوت دی۔مہاتما گاندھی کاکہنا ہے:My faith is that the progress of Islam does not depend on the use of sword by its believers but the result of the supreme sacrifice of Hussain (A.S.) the great saint.مجھے یقین ہے کہ اسلام کی پیشرفت اس کے پیروکاروں کی تلوار کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ حضرت امام حسین ؑ کی اُس عظیم قربانی کا نتیجہ ہے جواُس عظیم ہستی نے دیں۔)ہئیت ماتمی عزاداران ابوالفضل عباس محلہ عباسیہ ہزارہ کو دعوت دی گئی تو انہوں نے ” سکینہ بل چو بوری ۔۔بوری تو قنجغے مہ۔۔۔۔ رہااز قید و بند شدی نوری دیدے مہ۔۔۔ رہاشدی دیدے مہ۔۔۔بوری تو قنجغے مہ۔۔۔ سکینہ طفل امئی توضد نہ کو دہ ہر جائی۔۔۔ شدہ کم حوصلے مہ۔۔۔ بوری تو قنجغے مہ۔۔۔“ اس کے بعد میزبان نے جواہرلال نہروکاقول سنایا جس کا کہنا ہے کہ:Imam Hussains (A.S.) sacrifice is for all groups and communities, an example of the path of righteousness.(حضرت امام حسین ؑ کی قربانی تمام فرقوں،گروہوں اور اقوام کے لئے ہے، حق اور صداقت کی راہ پر چلنے کے لئے۔“ہئیت ماتمی عزاداران بیت الاحزان نے یاور رضا یاوری اور ہمنواوΏں کے ساتھ ”بی بی زینب اویے نہ بلدے طفلِ حزینہ۔۔ ۔ آواز ماتم مایہ از دوور مدینہ۔۔۔ بندی دل رہ مونٹی نہ آوΏ دیدائی سکینہ۔۔۔“ اس کے علاوہ ”آبئی جان دِ ق نہ شو بلدے مہ ما شہیدوم اوآبئی شہیدوم۔۔۔ نہ دہ عذابم، غم دروم نہ دیقوم او آبئی شہیدوم۔۔۔“ پڑھ کرعزاداروں سے خوب داد سمیٹی۔ اس کے بعد سب سے آخر میں ایک بار پھرہئیت عزاداران حسینی ناصر آباد کے عقیل حسنین، اسد اللہ،شاہد حسین اور سجاد سحر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ جنہوں نے ”آتے مہ دہ کجا یہ آتے مہ دہ کجا یہ۔۔۔ آبئی چرہ آتے مہ سونہ از مو نہ مایہ۔۔ آتے مہ دہ کجایہ۔۔۔؟بیدی تو تسلی دلی از خود خو سکینہ۔۔۔ آتے مہ دہ کجایہ۔۔۔؟ ما دہ گمانوم کی آتے مہ دہ دانی بلایہ۔۔۔ آتے مہ دہ کجایہ۔۔۔؟“ کے علاوہ ایک اور نوحہ پڑھا جس کے بول تھے ”شہزادہ قاسم شہزادہ قاسم۔۔۔۔مندوم دہ جائی تو۔۔۔ ششتوم دہ رائی تو۔۔۔شہزادہ قاسم۔۔۔ ای قاسم مندہ چیما دہ رائی تو۔۔۔ کش کی پس بائی ای ما فدائی تو۔۔۔ای نوجوان مہ ای قاسم جان مہ۔۔۔ می لرزہ پائی مہ۔۔۔شہزادہ قاسم۔۔۔“ کے علاوہ مجلس کے آخر میں امام عالیٰ مقام کے حضور سلام آخر پیش کیا۔ یاد رہے کہ دستہ ماتمی حسینی ناصرآباد ہزارہ کے نوحے عباس عاجز اور نوآموز شاعر سجاد سحر کے لکھے ہیں، جبکہ بیت الاحزان کے تمام نوحے کی شاعری ، شاعر اہلبیت یاسین ضمیر کی ہے اسی طرح سے ہئیت ابوالفضل عباس محلہ عباسیہ کے نوحے کی شاعری رمضان علی عدم نے کی ہے۔مجلس کے آخر میں نارسا زیدی کو سٹیج پر بلایاگیا جنہوں نے اُردو میں حضرت امام حسین ؑ کے حضور سلام پیش کئے جس کا مقطع ہے ” دعا ہے نارسا آجائے مہدیؑ۔۔۔میں چودہ سو برس کے دُکھ سناوΏں۔“ اس طرح میزبان نے براہ راست کوریج کے لئے کیمرہ ٹیم کی کنیز فاطمہ، رضوانہ زمان، مس منصورہ عبدالخالق اور محمدعلی چنگیزی، جبکہ سٹیج تیاری کے لئے صفدر علی خان تاتاری، وقار علی مزاری اور محمدعلی اسحاق، جبکہ سٹیج فوٹو گرافی کے لئے مس فوزیہ محمدجان اور حاجی حسین علی چنگیزی کا شکریہ اداکرنے کے ساتھ خصوصی طورپرجناب حافظ محبوب عالم، ڈیزائن منیجر پاکستان ٹیلی ویژن کے خصوصی تعاون کا شکریہ اداکیاگیا۔ اس کے علاوہ اُن دوستوں کا جنہوں نے ہزارگی مجلس نوحہ خوانی میں مالی کمک کرتے ہوئے نذر ونیاز حسین ؑ میں شریک ہوئے ان سب کا شکریہ اداکیاگیا۔ مجلس کے آخر میں لنگر تقسیم ہوا۔ ٭٭٭٭


Click to Enlarge