Event - Tanzeem Nasl-e-Nau Hazara Mughal

ارگی اصلاحی ڈرامہ، ہزارگی ثقافتی ٹیبلواور تقسیم انعامات

کوئٹہ( خصوصی رپورٹ) تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے زیراہتمام ہزارگی اکیڈمی کے ہزارہ ایکٹ اکیڈمی کی طرف سے گزشتہ روز تنظیم کے خدیجہ محمودی ہال میں خوبصورت تقریب ہزارگی اصلاحی ڈرامہ، ہزارگی ثقافتی ٹیبلواور تقسیم انعامات منعقد ہوئی۔ اس خوبصورت تقریب کے مہمان خاص تنظیم کے سابق سکیرٹری جنرل ، معروف بینکار، سماجی اور قومی رہنما، وائس چئیرمین سوئم تنظیم نادر علی ہزارہ صاحب تھے۔ تقریب میں ہزارہ قوم کے معتبرین اور معززین سمیت اساتذہ اور طلباءطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کیں، شرکت کرنے والوں میں بانی چئیرمین ہزارہ قومی تنظیم جی اے حیدری، سکیرٹری جنرل محمدابراہیم ہزارہ، وائس چئیرمین اول دوئم ، سکیرٹری تعلیم حاجی صادق علی، ڈائریکٹر ٹی سی ای ایم آزاد سمیت دیگر ممبران سینٹرل کمیٹی ،ڈی آئی جی (ریٹائرڈ) فقیر حسین چنگیزی، حاجی عبدالواحد، حاجی غلام حسین بابل، سید ابرارحسین ، حاجی انجنئیر صادق علی، محمدہادی رحیمی، محمدرضا اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کیں۔سٹیج سکیرٹری کے فرائض تعمیرنسل نو ہائی سکولزنیٹ ورک کی دونہاراور قابل طالبات سیماگل اور نایاب بتول نے انجام دئیے۔ تقریب کے شروع میں میزبانوں کی طرف سے مہمانوں کو خوش آمدید کہاگیا۔ اس کے بعد تنظیم سکول کی سحر اور اس کے ساتھیوں کو باقاعدہ روایتی ہزارگی ثقافتی انداز و اطوار میں مہمان کو خوش آمدید کہنے کے لئے ٹیبلو پیش کرنے کی دعوت دی گئی،جنہوں نے سلام علیکم ۔۔۔وعلیکم الئی جو پیش کرکے مہمان خصوصی اور دیگر شرکائے گرامی کو خوش آمدید کہا۔خوش آمدید ٹیبلو کے بعد ہانیہ زہرا کو نشہ کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے عنوان پر تقریر کی دعوت دی گئی جس کا کہنا تھا کہ علم انسان کو قوت فیصلہ اور انسان دوستی کا احساس دیتا ہے۔ہزارہ قوم پرخدا کی رحمت ہے کہ اس کے چھوٹے بڑے سبھی تعلیم حاصل کرنے کو اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔دس جنوری 2013کے واقعے میںہزارہ قوم نے ےخ بستہ راتوں میں سڑک پراپنے چھیاسی شہداءکے ساتھ بیٹھ کر پرامن احتجاج کر کے دنیا کو دکھا دیا کہ ہزارہ قوم ایک پُر امن قوم ہے۔انہوں نے پورے پاکستان اور دنیا کو بتایا کہ احتجاج صرف گھیراو جلاو کا نام نہیں، بلکہ ایک پتہ ٹوٹے بنا بھی ریکارڈ ساز احتجاج کیا جاسکتا ہے۔ میرے لئے اتنا کافی ہے کہ جنرل سٹا ف میٹنگ میں چیئر مین صا حب نے حوصلہ افزائی کی اور چو نکہ تنظیم اس وقت مالی وسا ئل سے دو چار ہیں اس لئے میں دس ہزار رو پے ہزارگی اکیڈمی کو ڈو نیٹ کرتی ہوں۔ابرا ہیم ہزارہ صا حب نے اپنے خیا لات کا اظہار ان الفاظ میں کیا پہلے سب کو خوش آمدید کیا انھو ں نے کہاکہ میں امیدوار ہو ں کہ اس تقرےب کو آپ سب تعلیم و تربےت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔تنظیم نے گزشتہ 40،50سالو ں سے بیش بہا خدمات انجا م دی ہے۔ہمیں ےہ حقیقت تسلیم کرنی چا ہیے۔تنظیم میں آ نے سے پہلے آخری دفعہ 2007کو میں نے قبر ستان میں سخت الفاظ میں تنظیم کے خلاف بات کی تھی ۔حا لانکہ میرے پاس ثبو ت بھی نہیں تھے ۔میں نے کہا تھا کہ تنظیم نے قو م کو بیجا ۔اور اگر حیدری صا حب یا کوئی اور تنظیمی مجھ سے سوال کرے تو میرے پاس دلیل بھی نہیں تھے ۔کچھ لو گ جو تنظیم سے ہی نکلے ہیں وہ آج تنظیم کے خلاف بات کر تے ہیں اور لو گ ےقین بھی کرتے ہیں کیونکہ وہ تنظیم کے ہی لو گ ہیں لیکن میری آ پ سے گزارش ہے کہ آپ لو گ انکی بنےاد باتوں پر ےقین کرنے کے بجا ئے تنظیم کی خدمات کو دیکھیں ۔آج معصوم بچو ن نے آ کر اتنا خوبصور ت ٹیبلو پیش کیا جو ہر کوئی پیش نہیں کر سکتا ۔ان سب کو بشمول مِس صدیقہ شا باشی دیتا ہو کہ انھوں نے تنظیم کی مشکلات کا احسا س کرتے ہو ئے اپنا انعام جو 10000روپے ہیں واپس تنظیم کو ڈونیٹ کیا ۔اور میں بحیثےت سیکر یٹری جنر ل ایک ایک روپے کا حساب لو گو ں کو دے سکتا ہوں۔میں کسی کے لئے جھوٹ بول کر اپنا ایمان خراب نہیں کروں گا۔اگر آپ سب کا سا تھ ہمارے ساتھ رہا تو اِس قوم کا بیڑا پار لگا ئیں گے ۔اگلے سال تک ہم ایک کالج کا انعقاد کریں گے ہم قوم دوست اور انسان دوست ہیں۔ہم سیا ہ کو سیا ہ اور سفید کو سفید کہتے ہیں۔ بنین اور انکی سا تھےوں نے گانا پیش کیا (10th Class) ٹائٹل (الہ گل دانہ دانہ )مہمان خصوصی جناب نادر ہزارہ صا حب نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ۔ جو جہ بہ بال میرسد دیدہ شودچہ می مشود ماہ بہ سال میرسد دیدہ شودچہ می مشود تا کئی لی بندریشہ رفت پیرا دید ہ مشود حیی میشود


Click to Enlarge