Event - Tanzeem Nasl-e-Nau Hazara Mughal

کتاب پسِ آب و گِل کی تقریب

پس ِ آب و گِل کوئی عام کتاب نہیں، اس بہترین کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے کے لئے اس کے لیول کا دماغ اور ذہن درکار ہے اس کتاب میں انتہائی گہرے موضوعات کو قرآنی آیات کی روشنی میں اس قدر مدلل انداز میں بیان کیاگیا ہے کہ پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کوئٹہ( خصوصی رپورٹ) ہزارگی اکیڈمی (رجسٹرڈ) تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے زیر اہتمام گزشتہ روز تنظیم کے خدیجہ محمودی ہال میں معروف قلمکار جناب احمد علی بیگ کے قلم سے منصہ شہود پر آنے والی فکر افروز کتابپسِ آب و گِل کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب میں اساتذہ، طلبائ، تنظیم کے بانی چئیرمین جی اے حیدری، سکیرٹری جنرل محمدابراہیم ہزارہ، اراکین سینٹرل کمیٹی، تعمیرنسل نو سکولزنیٹ ورک کے پرنسپل ، تنظیم کالج آف ایجوکیشن کے ڈائریکٹر، سینٹرل کمیٹی کے اراکین، ہزارہ قوم کے زعماءجن میں عباس زرگر، حاجی عبدالواحد، کاظم علی چنگیزی، حاجی محمدطاہر نذری کے علاوہ خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی کے فرائض نجیب ہزارہ نے انجام دئیے۔ تقریب رونمائی کے صدر محفل معروف دانشور، استاد، محقق، شاعر اور مورخ پروفیسر ڈاکٹر آغا محمدناصر صاحب تھے۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں رمضان علی رحیمی،معروف صحافی جناب جاوید منصور، مرزا آزاد، احمد علی بیگ اور پروفیسر ڈاکٹرآغا محمدناصر شامل تھے۔ جبکہ پشتو اکیڈمی کے جنرل سکیرٹری ڈاکٹر عبدالروف رفیقی اور امان اللہ شادیزئی صاحب بعض ناگزیر وجوہات کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رمضان علی رحمی کا کہناتھا کہ کتاب پس آب و گِل کے ایک ایک مضمون کا مطالعہ کرتے ہوئے انسان پر خود بخود یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ مصنف کو نہ صرف اُردو زبان و بیان پر مکمل دسترس حاصل ہے بلکہ بہت سے علمی موضوعات سمیت فلسفہ کی ادق موشگافیوں سے بھی بخوبی واقف ہے۔ انہوں نے نہایت مشکل اور پیچیدہ موضوعات کو انتہائی سلیس کرکے پیش کیا ہے۔ میں اس قدر خوبصورت کتاب لانے پر اکادمی ہزارگی اور جناب بیگ کو تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جاوید منصور نے اپنی گفتگو کا یوں آغاز کیاکہ تمام تعریفیں اس اعلیٰ رب کیلئے جو یکتا اور لا شریک ہے وہ اول ہے اس طرح کہ اس سے پہلے کو ئی چیز نہیں اور وہ آ خر ہے یوں کہ اس کی کو ئی انتہا نہیں ۔میں محترم چیئر مین ہزارہ قومی تنظیم جناب غلام علی حیدری اور انکے رفقا خصو صاً ہزارگی اکیڈمی تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے عہدیدا ران کا مشکور ہو ں کہ انھوں نے اس با وقار محفل میں شریک کا اعزاز بخشا ۔ ےہ وضا حت کردوں کہ میں کو ئی روا ےتی تبصر ہ نگار نہیںہو ں البتہ کتابوں سے دوستی کے ناطے اچھی کتاب کو ضرور پڑھتا ہو ں ےہ او ر بات ہیں کہ کچھ کتابیں انسان کی سوچ پر براہ راست اثر انداز ہو تی ہیں اور ےہ ہمارا المیہ ہے کہ اس طرح کی کتا بیں لکھنے والوں کی تعداد کم ہو تی جا رہی ہے۔


Click to Enlarge