Event - Tanzeem Nasl-e-Nau Hazara Mughal

سالانہ تقریب تقسیم انعامات

میری دعا ہے کہ ایک خیمے سے شروع ہونے والا یہ تعلیمی اور تعمیری سفر ایک شاندار یونیورسٹی کے قیام کی شکل میں اپنی منزل پالے، رُباب دُرّانی مختلف شعبوں اور حصوں کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعدمیں کہتی ہوں کہہمارے شہر کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے ہاں آج ایسے قابل رشک تعلیمی درسگاہ موجود ہے انٹرنیٹ کے ذریعے تقریب پوری دنیا میں براہ راست دکھائی گئی،اگلے سال سے تعمیرنسل نو انٹرسائنس کالج سماج میں روشنی پھیلانے کا عمل شروع کرے گا کوئٹہ( خصوصی رپورٹ) ہزارہ قومی تنظیم کے مرکزی شعبہ نشرواشاعت سے جاری ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ روز تنظیم کے خدیجہ محمودی ہال میں تعمیر نسل نو سکولز نیٹ ورک کا سالانہ تقریب تقسیم انعامات منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں طلباءطالبات کے والدین کی کثیر تعداد، ہزارہ قوم کے زعمائ،ڈی آئی جی محمدموسیٰ جعفری، ڈاکٹرعلی، حاجی عبدالواحد، کیپٹن غلام حسین بابل،معروف شاعر رضاشاہد، پروفیسر فاطمہ چنگیزی، معتبرین، اساتذہ کرام اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت ہزارہ قومی تنظیم کے بانی چئیرمین محترم غلام علی حیدری، ڈائریکٹر ٹی سی ای ایم آزاد، ڈائریکٹرسکولز و پرنسپل تعمیرنسل نوانٹر سائنس کالج غلام عباس جعفری، پرنسپل تعمیرنسل نو سکولز نیٹ ورک حاجی محمدصادق، وائس چئیرمین اول و پروجیکٹ ڈائریکٹر مس فاطمہ ابراہیم، شعبہ ہمنصابی کے سربراہ مس منصورہ عبدالخالق، پانچوں کیمپسز کے ہیڈز نے شرکت کیں۔ تقریب کی مہمان خصوصی معروف ماہر تعلیم ، ہردلعزیز استاد ،سابق پرنسپل سردار حسن موسیٰ گرلز کالج موجودہ جوائنٹ ڈائریکٹر کالجز بلوچستان محترمہ رُباب درانی صاحبہ تھیں۔میزبانی کے فرائض مس حواسخی اور مس حوا حسن نے انجام دئیے۔ تقریب کے شروع میں مہمان خصوصی کو تعمیرنسل نو انٹرسائنس کالج کے مختلف شعبوں کا تفصیلی دورہ کرایا گیا۔ بعد میں انہوں نے تعمیرنسل نو سکولز نیٹ ورک کے مختلف سیکشن دیکھیں، جس کے بعدجب مہمان خصوسی سکول کے صحن میں پہنچی تو ہزارگی روایتی ثقافتی لباس میں ملبوس ننھی طالبہ سحر نے انھیں گلدستہ پیش کیا، اس موقع پر تعمیرنسل نو سکولز نیٹ ورک کی تمام خواتین ٹیچرز اور ہیڈز استقبالیہ قطار میں کھڑی تھیں۔ ریڈ کارپٹ استقبالیہ میں مہمان خصوصی کو ننھے طالب علموں نے پھول کی پتیاں کے ساتھ استقبال کیا۔ جب مہمان خصوصی ہال میں پہنچی تو مہمانوں سے کھچا کچ ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔اس بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت خوش الحان قاری طالب علم جماعت ہفتم سید علی آغا نے حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی نعت رسولِ مقبول پیش کرنے کے لئے مسلم حسین سٹیج پر آئے اور اپنی دلکش آواز میں سرکارِ دوجہاں کے حضور مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ۔۔۔۔ گلہائے عقیدت پیش کئے۔ نعت ِ رسول مقبول کے بعدقومی ترانہ پیش کیاگیا جس کے احترام میں تمام شرکائے محفل اپنی جگہوں پر کھڑے ہوگئے۔اس کے بعد میزبانوں نے سکول کی جماعت دہم کی ہونہار طالبہ بہترین مقرر سیما گل کو انگریزی میں تقریر کرنے کے لئے بلایا ۔ سیما گل کی تقریر کا عنوان تھا(The modren age is the age of frustration)انہوں نے اس خوبصورتی سے تقریر کی کہ شرکاءسے خوب داد سمیٹی۔اسی دوران میزبانوں کی طرف سے اعلان کیاگیا کہ مذکورہ تقریب کو انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا میں براہ راست دکھا یا جارہا ہے، سکول ہذا کے ہزاروں بچے بچیوں کے رشتہ داروں، عزیز و اقاریب پاکستان اور پاکستان سے باہر یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں بیٹھ کر اس تقریب کو براہ راست دیکھا۔میزبانوں کی طرف سے تقریب کی مہمان خصوصی کی تعریف میں چند جملے یوں بیان کئے گئے کہ ہماری آج کی تقریب کے مہمان خاص اور صدر محفل محترمہ رباب دُرانی صاحبہ، جوائنٹ ڈائریکٹر کالجز حکومت بلوچستان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی محترمہ رباب درانی جوائنٹ ڈائریکٹر کالجز بلوچستان کو تقریر کے لئے دعوت دی گئی۔انہوں نے تنظیم کے بانی چئیرمین محترم غلام علی حیدری اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہال میں آنے سے پہلے تعمیرنسل نو انٹرسائنس کالج اور سکول کے مختلف حصوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ میں شکر گزار ہوں اس ادارے کے منتظمین کا جنہوں نے مجھے یہ موقع فراہم کیا کہ میں اپنے شہر میں اس قدر ایک خوبصورت تعلیمی ادارے کوبالمشافہ دیکھ سکوں۔ میں نے سکول اور کالج میں آپ کے تمام سائنس لیبارٹریز، مجوزہ کیمپیوٹر لیب اور تیار شدہ بہترین کمپیوٹر لیب کے علاوہ آپ کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ اور کانفرنس روم کا بھی دورہ کرلیا۔ یقین جائیے کہ مجھے اس ادارے کی کارکردگی اور سسٹم کو دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ آپ نے اپنی مدد آپ کے تحت اتنا سارا کام کیا ہے۔ اس قدر ایک شاندار سسٹم کے تحت یہاں ہمارے ہزاروں بچے بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔ وہ خوش نصیب ہےں کہ ایک جدید سائنسی سہولیات سے آراستہ و پیراستہ ایک درسگاہ میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔جس طرح ڈائریکٹر صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس ادارے کی بنیاد فقط ایک خیمے سے رکھی گئی جس میں چند بچوں کو ٹیوشن کی تعلیم دی جاتی تھی، مگر آج الحمداللہ میں مکمل یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ تعمیرنسل نو سکولز نیٹ ورک ہمارے شہر کے بہترین اور صف اول کی درسگاہوں میں سے ایک ہے۔ مجھے تو آپ کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ہمارے بچوں نے کس قدر خوبصورت پینٹنگ کی ہیں۔ یقین کریں کہ میں نے اسی قسم کی پینٹنگز نیشنل لیول پر بڑے بڑے آرٹ گیلریز میں دیکھی ہیں۔کچھ عرصہ قبل میں نے ڈیرہ مراد کا دورہ کیاتھا وہاںبھی مجھے ہمارے بچوں کے کام نے بہت متاثر کیا۔ البتہ آج یہاں اس تعلیمی ادارے میں علی الخصوص آپ کے شعبہ ہمنصابی میں بچے بچیوں کی عملی تربیت پر جس طرح توجہ دی جاتی ہے وہ سب دیکھ اور سن کر میں ورطہ حیرت میں ڈوب گئیں کہ ہمارے ہاں اس قدر شاندار تعلیمی ادارہ بھی کام کررہا ہے۔آج اس خوبصورت تقریب میں مَیں نے بچوں کی ڈسپلن، خوبصورت اور متاثر کن تقاریر سن کر بہت متاثر ہوئیں۔اس ادارے کی طرف سے بچوں کے ساتھ ساتھ والدین کی حوصلہ افزائی کا جو سلسلہ رکھا گیا ہے وہ کس قدر شاندار ہے، یقینا بچوں کی تعلیم و تربیت میں اساتذہ اور سکول کے ساتھ والدین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ تعمیرنسل نو سکولز نیٹ ورک کی کارکردگی کو دیکھ کر میں اُمید کرتی ہوں کہ انشاءاللہ اس کا کالج تو اس سے بھی کئی گنا بہتر ثابت ہوگا۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری حکومت تعلیم کے شعبے کواتنی اہمیت نہیں دیتی کہ جتنی ترقی یافتہ اقوام دیتی ہےں۔تاہم ایسے تعلیمی اداروں کی سرپرستی اور ہمکاری کرتے ہوئے ہمیں خوشی ہوگی۔ ہماری طرف سے ہمارے بچے بچیوں کی تعلیمی پرورش کے سلسلے میں جس قدر تعاون ممکن ہوسکتا ہے ہم حاضر ہیں۔میری دعا ہے کہ ایک خیمے سے شروع ہونے والا یہ تعلیمی اور تعمیری سفر حقیقی معنوں میں اپنی منزل پاکر یونیورسٹی کی صورت اختیار کرلے۔تقریب کے اس آخری حصے میں تنظیم کے بانی چئیرمین محترم غلام علی حیدری نے مہمان خصوصی جوائنٹ ڈائریکٹر کالجز بلوچستان محترمہ رُباب درانی صاحبہ کو یادگاری شیلڈ پیش کئے۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی تواضع چائے سے کی گئی۔ یوں تعمیرنسل نو سکولزنیٹ ورک کی یہ خوبصورت تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔


Click to Enlarge